بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس انٹرویو میں جنوری 2026 کے تلخ واقعات کا ہمہ جہت اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکورٹی پہلو اس معاملے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ منصوبے اور بعض اقتصادی اور سماجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنا 47 سالہ خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور یقیناً اس بار بھی ماضی کی طرح، وہ غلط اندازے کا شکار ہوگئے اور ایرانی عوام کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر، نہیں پہچانا چنانچہ ان کا منصوبہ ماضی کی طرح ادھورا اور ناکام ہو گیا۔
اسی سلسلے میں اور دشمن کے منصوبوں سے نمٹنے کے مقصد سے، درج ذیل امور سپاہ پاسداران کی انٹیلی جنس تنظیم کے ایجنڈے پر رکھے گئے ہیں:
1۔ دشمن کے منصوبے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے ہدف کے ساتھ 'قومی معلوماتی نیٹ ورک' کے منصوبے کی تکمیل میں مدد کے منصوبوں کی پیروی اور اہتمام کرنا
2۔ گھریلو فسادیوں کے مواصلاتی ڈھانچے اور ان کے بیرونی سرغنوں کے نیٹ ورک میں مداخلت اور ان تک رسائی
3۔ سرحدی جھلی پر دشمن کے دہشت گرد نیٹ ورک کے کلیدی عناصر کی نگرانی اور ان کی مکمل معلومات حاصل کرنا
4۔ حالیہ فسادات میں فریب خوردہ عناصر کو دشمن کے نیٹ ورکس کے اندر استعمال کرنا
5۔ نفوذی اور درانداز عناصر کے ذریعے دشمن کے مشترکہ آپریشن کے منصوبہ سازوں اور پیادوں کی تہوں میں ادراکی اور علمی رد و بدل کرنا
6۔ عوام اور مختلف طبقات کے تعاون سے اسٹریٹ فورس فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی نشاندہی اور ان سے فیصلہ کن انداز سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھنا
قدرتی طور پر عوام کی عمومی سیکورٹی کو درہم برہم کرنے کے لئے دشمن کی حکمت عملی اور میدانی پروگراموں پر موجودہ مکمل معلومات کی بنا پر، متعدد منظرناموں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کا سامنا کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ دشمن کی شرارتیں نہ تو بنیادی طور پر ختم ہوئی ہیں اور نہ ہی طریقہ کار کے لحاظ سے، اور وہ معاشرے کے اقتصادی، سماجی اور ادراکی حالات اور قلتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ملک کو کمزور کرنے اور ایرانی قوم کو تسلیم کرانے کے حالات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیکن علاقائی اور ماورائے علاقائی طاقت کے عوامل کو چیلنج کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ کے متنوع اور وسیع پروگراموں کی پہچان سے دشمن کی معلوماتی بے بسی ایسا موضوع ہے جس کی طرف اشارہ کیا جانا چاہئے۔ "علاقائی جنگ" جس کی رہبر انقلاب نے اشارہ کیا، ملک کی سرحدوں سے باہر اسلامی جمہوریہ کی نرم، نیم سخت اور سخت صلاحیتوں کے ساتھ، ایک ایسا موضوع ہے جس نے دشمن کو مصروف کر رکھا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ وجودی خطرات کا جواب وجودی اہداف پر حملہ کرکے، دیتی ہے۔ یہی بات انہیں بعض خطرناک منظرناموں پر عمل کرنے کے حوالے سے محتاط کر دیتی ہے۔
سوال: امکان ہے کہ آپ نے حالیہ ہفتوں میں رہبر انقلاب سے ملاقاتیں کی ہوں اور رہنما اصول حاصل کئے ہوں۔ اگر ممکن ہو تو، رہبر انقلاب کی ہدایات کی کچھ وضاحت کریں۔
جواب: حالیہ فسادات سے پہلے میں حضرت آقا (حفظہ اللہ) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور بارہ روزہ جنگ اور دشمن کی سازشوں کی تازہ ترین صورت حال اور مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور عرض کہ دشمن بارہ روزہ جنگ میں یہ سوچ رہا تھا کہ فوجی کارروائی اور کمانڈروں کو نشانہ بنا کر وہ اندرونی طور پر تخریب کاری اور انقلاب دشمن فساد کی بنیاد فراہم کر دے گا، لیکن آپ کی حکمت عملی سے کمانڈروں کی فوری تقرری، مجاہدوں کے فیصلہ کن حملے، عوام کی ہوشیاری اور قومی یکجہتی اور سیکورٹی کے اداروں کی طرف سے 'امیرالمومنین - 2 مشقوں' کے فوری انعقاد سے ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور انہوں نے شکست تسلیم کر لی۔ لیکن جنگ کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انہیں پہلے ملک میں بحران اور بغاوت برپا کرنا چاہئے اور پھر فوجی حملے کرنا چاہئیں۔ اسی لئے دشمن ملک میں اقتصادی چیلنجز کا استعمال کرتے ہوئے اور اسنیپ بیک کو بہانہ بنا کر، معاشرے کے سکون میں خلل ڈال کر فساد برپا کرنے کے درپے ہے۔ ان کا سب سے اہم ہتھیار ورچوئل اسپیس اور سائبر اسپیس پر ہماری کمزور گورننس ہے۔
حضرت آقا (حفظہ اللہ) نے فرمایا کہ معلوماتی کام پر توجہ دو۔ یہ دور سنہ 1981 جیسا ہے۔ آپ نے نفوذ اور دراندازی کے خطرے پر زور دیا۔ پچھلی نشستوں میں بھی فرمایا تھا کہ ہمارے ہاں دو قسم کا نفوذ ہے، ایک انفرادی نفوذ ہے کہ ایک فرد جانتا ہے کہ وہ دشمن کا ایجنٹ ہے اور جان بوجھ کر غداری کرتا ہے، لیکن دوسری قسم کا نفوذ ادراکی اور فکری ہے کہ افراد انجانے میں، اس بات کا احساس کئے بغیر کہ وہ دشمن کے لئے کام کر رہے ہیں، دشمن کے خیالات، اہداف اور پروگراموں کی پیروی کرتے ہیں اور اس لحاظ سے ورچوئل اسپیس کا خاصا کردار ہے جس پر صحیح حکمرانی لاگو کی جانی چاہئے۔
حالیہ واقعات کے بعد حضرت آقا (حفظہ اللہ) نے کچھ نکات پر زور دیا جیسے:
1۔ دشمن کی معلومات، پروگراموں اور اہداف پر خصوصاً انفرادی اور ادراکی نفوذ و دراندازی کے میدان پر توجہ دو۔
2۔ کوشش کرو کہ عوام اور مظاہرین کی صف کو فسادیوں سے الگ کر دو، نوجوانوں اور ناواقف افراد کو آگاہ کرو اور فسادیوں سے فیصلہ کن انداز سے نمٹ لو۔
3۔ عوام کے مسائل ایک حقیقت ہیں جنہیں مدنظر رکھنا چاہئے، عوام اور تاجروں کے بر حق اور جائز مطالبات کو فسادیوں سے الگ کر دو۔
4۔ [معاشرے اور عوام کے بارے میں] معاشرے کے مثبت حقائق کو مت بھولو۔ ہمارے پاس ایک دولت ہے جو کسی کے پاس نہیں؛ اور وہ عوام ہیں۔ دنیا میں کہاں دیکھا گیا ہے کہ ایک اشارے پر اتنی بڑی تعداد (جیسے 12 جنوری کو) اکٹھی ہوکر میدان میں آئے؟
5۔ انٹرنیٹ کی صحیح گورننس کو فراموش نہ کیا جائے۔
6۔ امریکہ اور اس کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ مایوس نہ ہو جائے۔ لیکن میرا دل مطمئن ہے کہ ہم ان سب پر غالب آ جائیں گے، میرا دل مطمئن ہے کہ یہ کچھ نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ